محبوبہ کی فرمائش پر گانا شروع کیا. استاد ہدایت اللہ

پاکستان فن فنکار

ہر خوا تورے تیارے دی ترمطلبہ یارانہ شوہ
دا سنگہ زمانہ شوہ ، دا سنگہ زمانہ شوہ.

یہ اور اس طرح ہزاروں خوبصورت گیتوں کے گانے والے پشتوگلوکار استاد ہدایت اللہ کی کہانی رنگین ضرور ہے لیکن اپنے سریلی اواز کی وجہ سے کروڑوں پختونوں کی دلوں پر چار دھائیاں راج کرنے والا یہ عظیم فنکار اج کل موت اور زندگی کی کشمکش میں ہے. کئے سالوں سے صاحب فراش ہوچکے ہیں لیکن یاداشت قائم ہے اور بتاتے ہیں کہ عین دور شباب میں وہ دراصل نعت خوان تھے لیکن پڑوس میں ایک خوبصورت لڑکی رہتی تھی ، ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے، دوستی ہوگئی، لڑکی نے میرے نعت سنے تو بولی اپ کی تو ماشاءاللہ بہت خوبصورت اواز ہے گانے کیوں نہیں گاتے اور بس پھر گانے لگ گیا.




فن موسیقی میں اپنے دور کے عظیم اساتذہ رفیق شینواری مرحوم، فرخ سیر شمع اور خلیفہ استاد کے شاگرد رشید رہے اور خوب پختگی پائی.

محبوبہ کی کہنے پر محبوبہ کی محبت میں گائے ہوئے استاد ہدایت اللہ کے گانے پشتو کلاسیک میوزیک کے اہل ذوق اصحاب کو اج بھی یاد ہیں اور اج بھی استاد کی اواز کانوں میں رس گھولتی ہے لیکن شائد نئی نسل کو معلوم نہ ہو کہ موصوف ضلع نوشہرہ کے ڈاگ بیہسود کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور پشاور میں رہائش پزیر ہے.

صحافی، ادیب فاروق فراق راوی ہے کہ استاد کا کہنا ہے کہ ہرجمعرات کو پشاور کے عبدالستار باچاجان کے دربار میں محفل سماع کا اہتمام ہوتا تھا جہاں وہ اکثر اتے جاتے اور ایک دن وہ اپنا کلام اپنی خوبصورت اواز میں سنانے لگے تو وہاں میوزک ریکارڈ کرنے والی کمپنی کے کچھ لوگ بھی موجود تھے جنہیں استاد کی اواز بہت پسند ائی اور گراموفون پر گانے ریکارڈ کروائے.

بعد میں موصوف نے جب ریڈیو پاکستان سے گانے ریکارڈ کرنے شروع کئے تو شہرت کے بلندیوں پر پہنچنے لگے اور فلمساز حضرات پیچھے لگ گئے اور یوں پشتوفلمی موسیقی کی دنیا میں ایک خوبصورت اواز اور منفرد انداز کا اغاز ہوگیا. پشتو کی اولین فلم یوسف خان شیربانو کا گانا ” راشہ او راشہ خوشے میدان دے، سلگے می لاڑے، روح می راون دے ” فلم سٹوری، سین سلیکشن اور موسیقی کے اعتبار سے استاد ہدایت اللہ نے اتنا زبردست گایا ہے کہ سننے والے اج بھی عش عش کرنے لگتے ہیں.




منفرد اواز و انداز کے ساتھ ساتھ استاد منفرد خودار اور بااصول زندگی بسرکرنے والے فنکاراور شخصیت ہے. ٹی وی، ریڈیو اور فلم کے سوا کبھی کسی عوامی محفل میں گانا اس کی ظریفانہ طبیعت میں شامل نہیں تھا.

دیگر اعلی اعزازات کے ساتھ حکومت پاکستان نے فن موسیقی کے لئے استاد ہدایت اللہ کے بیش بہا خدمات کے اعتراف میں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا لیکن اہل خانہ کا شکوہ بجا ہے کہ جب کئے سالوں سے استاد سخت بیمار ہے تو حکومتی اداروں نے علاج کے خاطر انکا حال احوال پوچھنا تک گوارہ نہیں کیا.

نوٹ. یہ تعارفی مضمون میاں فاروق فراق اور مدثرشاہ کے پشتو مضمون کا کم وبیش ترجمہ ہے. ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے