دیر میں یوسفزئی کے اتحادی قبائل. وردگ اور مشوانی قبائل کی مختصر تاریخ

پاکستان تاریخ

ماخوز از گمنام ریاست:
باب. دیر میں یوسفزئی قبیلے کے اتحادی قبائل:
دیر میں مشوانی اور وردگ قبائل کی مختصر تاریخ اور ابادی کا ارتکاز.
تحریر. سلیمان شاہد ایڈوکیٹ.

وردگ قبیلے کو پشتوزبان کے مختلف لہجوں میں وردک، وڑدگ اور وردگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. تاہم اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے زیادہ ترافراد خود کو وردگ کہلاتے ہیں اور یہ سب سے زیادہ مستعمل ہے.

مشوانی کو پشتو کے مقامی لہجوں میں مشوانڑی اور بعض لوگ غلط العام کی وجہ سے مشمانڑی بھی کہتے ہیں. ( ایڈیٹر نوٹ، اس حوالےسے اپنے خیالات اور معلومات کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں شکریہ )




وردگ بابا اور مشوان بابا سید محمد گیسودراز کے بیٹے تھے. تواریخ حافظ رحمت خانی کے مطابق یہ قبائل افغان قبائل ہیں. تاریخ خورشید جہاں کے مطابق وردگ کے بیٹے ممک، معیار،میر، لوزی، لڑم اور گدائی تھے جن میں معیار کی اولاد نے کافی نام کمایا ہے. معیار کے مزید چارزیلی قبائل یا زیلی شاخیں ملک یارخیل ، خورم خیل ، ادین خیل اور مصری خیل ہیں.

وردگ اور مشوانی ( مشوانڑی ) قبائل بھی دلہ زاک کے خلاف یوسفزئی کی شانہ بشانہ لڑے ” تواریخ حافظ رحمت خآنی "کے مطابق شیخ ملی تقسیم میں وردگ قبیلے کو بونیر میں دولت زئی قبیلے ( یوسفزئی قبیلہ ) کے ساتھ کلپانئی، دیر میں ملیزئی قبیلے کے ساتھ ساتھ جندول، براول اور سوات میں بابو زئی ( یوسفزئی) قبیلے کے ساتھ جائیداد میں حصہ دیا گیا تھا.

اسطرح مشوان بابا کے اٹھ بیٹے تھے جن کے نام یاغن، لوین، مشکانی ، سلمہانی، تغمض، کزبوتی، خرباڑی اور غریب تھے. مشوان کی اولاد میں پھر تغمص قبیلہ کی تعداد بڑھی. یہ قبیلہ بھی مزید چار زیلی شاخوں میں تقسیم ہے جو کیسوڑ ، مہمند ، بدور اور ترک کہلاتے ہیں.

شیخ ملی کے بعد مندنڑ قوم کی شاخ اتمان زئی نے مشوانی قوم کو کوہ کنگر کا علاقہ دیا . اج کل کوہ کنگر ، سری کوٹ ، کنڈی امرخانہ اور گدوالیا کے علاقے میں ان کی کافی تعداد میں لوگ اباد ہیں. ان مزکورہ علاقوں کے علاوہ مشوانی اور وردگ اقوام مشترکہ طور پر افغانستان، ہزارہ، چھج اور ساول ڈھیر میں بھی بڑی تعداد میں رہائش پزیر ہیں. دیر میں وردگ اور مشوانی اقوام درہ براول سے لیکر درہ جندول تک اباد ہونے کے علاوہ خاص دیر، رباط درہ، دپور ( میدان) میں بھی نمایاں تعداد میں اباد ہیں.

مزید پڑھئے.

دیر میں یوسفزئی کی تاریخ

اقوام اتمان خیل تاریخ اور چرچل کی نظر میں



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے