ہولو کاسٹ کیا ہے؟؟ ہولوکاسٹ کی مختصر تاریخ

پاکستان تاریخ

دنیا پاکستان نامی ویب سائٹ کے ایک تحقیقی مضمون کے مطابق ہولوکاسٹ کی تعریف کچھ اسطرح کی گئی ہے.

"ہولوکاسٹ (Holocaust) کی اصطلاح دراصل یونانی لفظ (holókauston) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب “مکمل جلادینا“ یا راہِ خدا میں جان قربان کردینا ہے۔یہودی کہتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں جرمن فوجیوں نے تقریبا "ایک کروڑ” یہودیوں کو زندہ جلادیا تھا۔اور وہ اس کو ہولوکاسٹ (HoloCaust) کہتے ہیں۔
یہودیوں نے قانون بنوادیا ہے،جس کی وجہ سے مغرب ميں اگر کوئي شخص ہولو کاسٹ کي ماہيت پر بولنے اور اس پر تحقيق کرنے کي کوشش کرتا ہے تو اس پر عدالتي کاروائي ہوتي ہے اور نتيجے ميں نقد جرمانہ يا پھر قيد کي سزا بھي اس کو بھگتنا پڑتي ہے – اس وقت يورپ کے بہت سے ملکوں ميں ہولو کاسٹ کے انکار يا اس کو مبالغہ آميز قرار ديئےجانے کو ايک جرم سمجھا جاتا ہے.

آسٹريا ، بلجيم ، جمہوريہ چک، فرانس ، جرمني ، ليتھوانيا ، پولينڈ ، رومانيہ ، سلواکيہ اور سوئزرلينڈ وہ يورپي ممالک ہيں جن ميں ہولو کاسٹ کے انکار کو جرم سمجھا جاتا ہے ".

لفظ "ہولوکاسٹ” بظاہر بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے پیچھے بہت بڑی تاریخ چھپی ہے جس پرایک بڑی کتاب لکھی جاسکتی ہیں۔ میں یہاں مختصرا ہولوکاسٹ کا ذکر کروں گا تاکہ ہماری نئی نسل ہولوکاسٹ کے پیچھے چھپی اصل کہانی کو آسان الفاظ میں سمجھ سکے۔

پہلے صیہونیوں کا عقیدہ تھا کہ جب تک ان کا مسیحا یعنی دجال نہیں آئے گا ان کے لیے اس دنیا میں الگ وطن حاصل کرنا ناممکن ہے۔ ہولوکاسٹ سے پہلے تک صیہونیوں کا یہی عقیدہ رہا لیکن بعد میں صیہونیوں کے دانا بزرگوں نے اس عقیدہ کی تھوڑی مختلف تشریح پیش کیجس کے مطابق اپنے مسیحا کے انتظار سے پہلے ہمیں اپنی معاشی برتری حاصل کرنی چاہیے اور اس معاشی طاقت کے بل بوتے پر یہودیوں کو الگ وطن حاصل کرلینا چاہیے اور اس وطن میں اپنے مسیحا یعنی دجال کا تخت بنانا ہوگا جب ہی ہمارا مسیحا (دجال) آئے گا۔



یہ نئی تشریح یہودی نوجوانوں کو بھا گئی، یہودیوں کی نوجوان تحریکوں نے زور پکڑا اور انہوں نے الگ وطن کی آواز کو سیاسی ایشو بنادیا اور ہر طرف تحریکیں شروع کردیں گئیں۔ لیکن بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ دنیا بھر میں موجود یہودی ہجرت کرکے فلسطین آنے کو راضی نہیں ہورہے تھے۔ اور اسی مقصد کے لیے صیہونیوں نے قتل عام شروع کروایا۔

صیہونیوں کی یہ نئی تشریح عام یہودیوں کے لیے تھی مگر اس کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور تھی۔ صیہونیوں کا اصل پلان یہ تھا کہ پہلے پوری دنیا میں معاشی بحران پیدا کیا جائے جس کے نتیجے میں عالمی جنگ کروائی جائے اور جنگ کے اختتام پر ایک آزاد یہودی ریاست (اسرائیل)کا اعلان کیا جائے۔ ساتھ ساتھ دنیا بھر میں موجود یہودیوں کو فلسطین منتقل کیا جائے ۔ جو نہیں آنا چاہیں انہیں ہر حربہ استعمال کرکے ہجرت کرنے پر مجبور کیا جائے چاہے اس کے لیے کچھ یہودیوں کو قتل ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

یاد رہے دوسری عالمی جنگ سے پہلے صیہونی کا پلان کردہ عالمی معاشی بحران 1929 میں پیدا کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی ممالک ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے اور وہ جنگ صیہونیوں کے عین منصوبے کے مطابق ایک عالمی جنگ کی شکل اختیار کرگیا۔1929 میں عالمی معاشی بحران پیدا کیا گیا، ٹھیک 10 سال بعد 1939 میں عالمی جنگ شروع کروادی گئی جو 1945 تک جاری رہی۔ اس کے ٹھیک 3 سال بعد 14 مئی 1948 کو امریکی اور برطانوی صیہونیوں کی مدد سے فلسطین پر قبضہ کرکے "اسرائیل” کا ناپاک وجود قائم کیا گیا۔



قارئین یاد رکھیں 1929 میں عالمی معاشی بحران پیدا ہوتا ہے اس کے چند سال بعد جرمنی میں 1933 میں ہٹلر کی نازی پارٹی اقتدار میں آتی ہے۔ ہٹلر کی یہودیوں سے نفرت کی گئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں جن میں ہٹلر کے مطلق منفی پروپیگنڈہ کہ وہ یہودی باپ کی اولاد ہے، ہٹلر کی ماں کی موت،صیہونیوں کی جانب سے عالمی معاش بحران پیدا کرنا، دنیا بھر میں ہر برائی کی جڑ صیہونیت سے شروع ہونا وغیرہ اہم ہیں۔سب سے زیاد اہم بات جس پر ہٹلر یہودیوں سے نفرت کرتا تھا وہ یہ تھی کہ ہٹلر جان گیا تھا کہ دنیا بھر بےحیائی، معاشی بحران یا قتل و گارت گری وغیرہ الغرض ہر بڑی برائیوں کے پیچھے صیہونیوں کا ہی ہاتھ ہے اس لیے ہٹلر نے اپنے ملک جرمنی سے صیہونیوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ ایک طرف کی سوچ ہے اور دوسری سوچ یہ ہے کہ ہٹلر خود بھی صیہونی صفت سفاک قاتل انسان تھا، اس نے صیہونیوں کی ہی مدد کی، ایک طرف اپنے ملک سے یہودیوں کو نکالنا چاہا تو دوسری طرف ان یہودیوں کو جرمنی چھوڑ کر فلسطین جانے کو کہا۔ بظاہر جرمنی سے نکالنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ فلسطین جاکر آباد ہوں اور پھر وہاں اسرائیل قائم کردیا جائے۔

یاد رکھیں ہٹلر بذات خود کوئی عظیم ہیرو نہیں بلکہ وہ بھی قاتل سفاک اور ظالم صفت انسان تھا۔ مگر یہاں کئی دانشور ایک بات نظرانداز کردیتے ہیں کہ ہٹلر کی نازی پارٹی کے صیہونیوں سے خفیہ یارانے تھے۔ آپ گوگل پر نازی پارٹی کو سرچ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس پارٹی کا لوگو ہی صیہونی فری میسن والا ہے۔ ہٹلر خود بھی اندر سے صیہونیوں سے ملا ہوا تھا۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر ہٹلر صیہونیوں سے ملا ہوا تھا تو اس نے لاکھوں یہودیوں کو کیوں قتل کیا؟ جناب یہی تو مسئلہ ہے کہ صیہونیوں نے معلومات کو اتنا گڈمڈ کروادیا ہے کہ کوئی انسان بھی اپنی سوچ کو کسی ایک زاویے میں رکھ ہی نہیں سکتا۔ ہر طرف سے انہوں نے ایسے ایسے خیالات اور سوالات پرواں چڑھائے ہوئے ہیں کہ انسان سوچ سوچ کر خاموش ہوجاتا ہے لیکن اسے سراغ نہیں ملتا کہ آخر ہوا کیا تھا اور اس سب کے پیچھے تھا کون؟

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف، غور سے پڑھیے

عالمی معاشی بحران صیہونیوں نے ہی پیدا کیا، اس بحران کے چند سال بعد ہٹلر برسر اقتدار آتا ہے اور پھر وہ صیہونیوں کو جرمنی سے نکالنا شروع کردیتا ہے، آخر کیوں؟ کیونکہ ہٹلر کا صیہونیوں سے خفیہ معاہدہ تھا جس کی رو سے دونوں نے اتفاق کیا تھا کہ جرمنی میں موجود لاکھوں صیہونیوں کو نکال کر فلسطین منتقل کرنا ہے۔ یہاں بھی بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں کہ آکر صیہونیوں نے یہودیوں کو نکالنے کے لیے ہٹلر کی مدد کیوں لی اور ہولوکاسٹ کہاں سے آیا ؟

اصل میں جب صیہونی دانا برزگوں نے فلسطین کی مقدس سرزمین پر قبضے کا پلان بنایا تو اس وقت یہودی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے مگر ان سب میں سب سے زیادہ یہودی ہٹلر کے ملک جرمنی میں موجود تھے جن کی تعداد تقریبا 40 لاکھ کے اوپر بتائی جاتی ہے۔ اب یہ تمام یہودی عشروں سے جرمنی میں رہ رہے تھے اور اپنے آباؤ اجدا کے گھر اور جائداد کو چھوڑنے پر ہرگز تیار نہیں ہورہے تھے دوسری طرف صیہونیوں کو معلوم تھا کہ جب تک یہ سب یہودی فلسطین منتقل نہیں کیے جاتے ہم الگ ملک اسرائیل کا اعلان نہیں کرسکتے۔



توابلیس کی مجلس شوریٰ نے سر پکڑ لیا کہ اب کیا کیا جائے؟ کس طرح یہودیوں کو زبردستی فلسطین پہنچایا جائے؟

ابلیس نے مشورہ دیا کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جس سے یہودی یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائیں کہ پوری دنیا میں ان پر ظلم کیا جارہا ہے انہیں اپنا نہیں سمجھا جا رہا اور انہیں بےدردی سے قتل کیا جارہا ہے، ٹھیک اس قتل عام کے وقت صیہونی ان عام یہودی خاندانوں کی مدد کو کود پڑیں اور انہیں مجبور کریں.

ماخوز از سوشل میڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے