قبیلہ اتمان خیل. چرچل اور تاریخ کے نظر میں

پاکستان تاریخ

تالیف وتدوین. سمیع اللہ خاطر.


انسائکلوپیڈیا اف برٹینکاکے گیارویں ایڈیشن جو کہ 1911 کا شائع شدہ ہے،کے مطابق اتمان خیل بنیادی اور تاریخی طور پرکرلاڼي
(کرلانڑی) پشتون قبیلہ ہے. اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ مختصرطور پر خود کو اتمانی بھی کہلوانا پسند کرتے ہیں. اتمان خیل پاکستان کے صوبہ سرحد ( موجودہ خیبر پختونخواہ) کے شمال میں پہاڑوں پر رہنے والاقبیلہ ہے اور اسکے علاوہ اس معروف قبیلے کے لوگ افغانستان میں بھی کثیر تعداد میں اباد ہیں.
پاکستان میں قبائلی باجوڑ ایجنسی کے اکثر علاقے ، دیر لوئیر،دیر اپر، سوات اور ملاکنڈ ایجنسی میں بڑی تعداد جبکہ مردان کے بعض علاقوں میں نسبتا کم تعداد میں اتمان خیل قبیلے کے لوگ رہائش پزیر ہیں. باجوڑ ایجنسی میں سب سے زیادہ تعداد اسی قبیلے کے نام سے منسوب تحصیل اتمان خیل میں سکونت پزیر ہیں تو تحصیل خآرکے علاوہ سلارزئی میں بھی ایک واضح اور نمایاں تعداد میں موجودہیں. تحصیل اتمان خیل باجوڑکے نمایاں اور قابل زکر گاؤں، قصبوں اور دروں کے نام، متکو، میرخآن، مانڑو ڈھیرئی، کولالہ، بانڈگئی، حیاتئی، علیزئی، ستاندار، ماندل، ارنگ اور برنگ ہیں.
دیر لوئیر میں دریائے پنجکوڑہ کے دونوں اطراف پہاڑی، ڈھلوانی علاقوں اور وادی تالاش میں اس قبیلے کے لوگ مقامی سماج، سیاست اور زیادہ ترزمین پر قابض ہیں.

ماندل اتمان خیل قبیلے کا زیلی شاخ ہے اور یہ لوگ تیمرگرہ، تنگی درہ، اور شیخان ( اتمان خیل درہ کے 9 گاؤں ) میں اباد ہیں جو کہ روحانی شخصیت عبدالرحیم باباعرف تور بابا کے اولادخیال کیے جاتے ہیں.تیمرگرہ تحصیل کے عمرکوٹ صدو، خونگی، ڈبر شیکولئی اور بلامبٹ تحصیل کے شاٹئی درہ جو جبگئی، شاٹئ، مٹہ، ملیخیلہ، ڈھیرئی، شیخان کے چھوٹے چھوٹے گاؤں پر مشتمل درہ ہے کے علاوہ قریبی واقع ملاکنڈدرہ کے گاؤں کوہیرے ، سفرے، بانڈہ یونین کونسل خزانہ کے ماخئ درہ ، حصارک،پلوسوڈاگ، کلہم درہ،تنگی وغیرہ اتمان خیل کے اکثریتی علاقے ہیں. تحصیل میدا ن کے کئے گاؤں اورقصبوں میں اتمان خیل قبیلے کے افراد کی نمایاں موجودگی بھی قابل زکر ہے جبکہ ملاکنڈ ایجنسی کے تحصیل درگئی اور بٹ خیلہ میں یہ لوگ کثیر تعدادکے حامل ہیں.

مردان کے تحصیل کاٹلنگ کے گاؤں (کوہی برمول، خرکئی، غازی بابا، پائپل، سنگاہواورمیاں خان ) قبیلہ اتمان خیل کے افراد پر مشتمل ہیں اور اس اکثریتی یوسفزئی قبیلے کے گڑھ میں اپنے الگ شناخت قائم رکھے ہوئے ہیں. ضلع پشاور، نوشہرہ، صوابی پرضلعی سطح پر مردان اور تحصیل تخت بھائی، شیرگڑھ وغیرہ کے علاقوں میں اتمان خیل قومی مومنٹ کی تنظیمی وجود اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انہیں علاقوں میں اقوام اتمان خیل بڑی تعداد میں سماجی اور سیاسی طور پر سرگرم عمل ہیں. اتمان خیل قومی مومنٹ 7 سال پہلے منظم طور پر شروع کی گئی اقوام اتمان خیل کی وہ قومی تحریک ہے جو دیر لوئیر، دیر اپر سوات، ملاکنڈ، مردان اور دیگر اضلاع میں مربوط تنظیمی سرگرمیاں رکھتی ہے . کابل افغانستان میں اقوام اتمان خیل شوری کے سرگرمیاں ہر سال دارالحکومت سمیت دیگربڑے شہروں بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں جس کے اشتہاری مواد پشتو کے ساتھ ساتھ فارسی زبان میں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں جو اس بات کی دلالت کرتے ہیں کہ ملک کے شمالی علاقوں اور کابل کے قرب وجوار میں موجود اتمان خیل قبائل امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ پشتو کے بجائے فارسی زبان کو اختیار کرچکے ہیں.(افغانستان ملی شوری اف اقوام اتمان خیل کے ویڈیودیکھنے کے لئے اس لنک کے لئے کلک کریں).

پاکستان کے اندر گزشتہ دورحکومت کے دوران نواب رئیسانی کے بلوچستان کابینہ میں اتمان خیل قبیلے سے تعلق سے رکھنے والے ایک موصوف تورخان اتمانخیل ممبر صوبائی اسمبلی اور وزیر رہ چکے ہیں . یوٹیوف پر موجود اتمان خیل قومی مومنٹ کی ایک تقریب کی ویڈیو پر جمیل سادات نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کابل سے میرا سلام قبول ہو اوراتمان خیل اقوام کا اتحاد زندہ باد. ان تمام شواہد اور مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ اقوام اتمان خیل صوبہ خبیرپختونخواہ، ملحقہ قبائیلی علاقوں اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ افغانستان میں نہ صرف کثرت سے موجود ہیں بلکہ اپنا قومی وقار، قبائلی شناخت اور سماجی روابط کو بڑھانے کے مربوط تنظیمی ڈھانچے بھی رکھتے ہیں. اس ویڈیو لنک پر ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں بہرحال اس قوم کی مختلف علاقوں میں موجود تعداد، جغرافیائی موجودگی، سیاسی ، سماجی زندگی اور تنظیمی سرگرمیوں پر مختلف اوقات میں تحقیق کے بعد اس ویب سائیٹ پر مضامین کا سلسلہ جاری رہیگا.لیکن فی الحال اس تمہید کو اس پر ختم کرکے اس قبیلے کی مختصر تاریخ کی طرف بڑھتےہیں کہ افغانستان کے صوبہ بغلان (بغلان ولایت) میں ایک علاقے کا نام بھی اتمان خیل ہے اور وہاں رہنے والے اکثرلوگ اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں.




افغان ٹی وی ژوندون کے ایک پروگرام ( ولایت پہ ولایت ) میں گزشتہ سال ایک دستاویزی ویڈیو پروگرام کے دوران بتایا گیاکہ کاپیسہ ولایت (صوبہ کاپیسہ) میں باجوڑی قبیلہ کے نام سے اباد لوگ موجودہ پاکستان کے علاقے باجوڑ اورجندول سے متحدہ ہندوستان کے زمانے میں قریبی ریاستی جنگوں وجہ سے وہاں (کاپیسہ ولایت) ہجرت کرگئے تھے اور اب وہاں کے باقاعدہ افغان شہری اور اکثریت بنیادی طور پر اتمان خیل ہیں جو کہ وہاں مقامی طور باجوڑی کی نام سے یاد کئے جاتے ہیں.

1911 کے مطبوعہ انسائیکلوپیڈیا اف برنیٹیکا کے صفحہ نمبر823 والیوم 27 میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے (موجودہ خیبر پختونخواہ ) میں اباد اس قبیلے کی کل ابادی 40،000 ہزار اور جنگ کے قابل لشکریوں کی تعداد 8000 ہیں لہذاہ 1852, 1878 اور 1897میں اس قبیلے کے خلاف انگریز سرکار کی لشکرکشی ضروری ہوگئی تھی.




سابق برطانوی وزیراعظم اور انگریز دورکے کمشنر ملاکنڈ چرچل نے اپنے کتاب ملاکنڈ فیلڈ فورس میں 1897 کے جنگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ 8ستمبر 1897 کو انگریز فوج کے جنرل بلڈ اور سیکنڈ بریگیڈ نے دریائے پنجکوڑہ پارکرکے علاقہ کوٹکے (خزانہ) اورگوسم (منڈہ) کی طرف پیش قدمی کی تو یہاں پرسے اگے بڑھنے کا عمل اسلئے رک گیا کیونکہ اسی مقام پر شموزئی اتمان خیل قبیلے پر جرمانہ ( Penalty ) یا قلنگ کی نفاذ کی ناکام کوشش کی گئی کیونکہ یہ لوگ مزاحمت کرنے لگے. اسی کتاب میں اگے جاکر چرچل لکھتے ہیں کہ 14 یا 15 ستمبر کی رات کو انگریز فوج کے مرخنئی کیمپ پر حملہ کیا گیا کیونکہ مرخنئی کے علاقے میں رہائش پزیر ماندہ اتمان خیل قبیلے کے لوگ انگریز سامراج اور برطانوی سرکار کے خلاف سخت نفرت اور بغض رکھتے تھے اور اس قبیلے کے لوگوں نے سوات کے جنگ میں بھی اسلئے حصہ لیا تھا.
عنایت کلے باجوڑ ( عنایت قلعہ ) کی جنگ کا زکربھی چرچل نے کیا ہے اور لکھا ہے کہ 400 افراد پر مشتمل لشکر جس کی قیادت محمد امین کررہے تھےجبکہ لشکر میں ماموند ، سلارزئی اور اتمان خیل قبائل کے جنگجو جوان شامل تھے اور انگریز سامراج کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے 12 قبائلی شہید ہوگئے تھے.

تاریخی حوالوں کے مطابق یہ قبیلہ بابا اتمان شمریز کی نسل ہے. بابا اتمان شمریز 997 عیسوی میں ہندوستان پر لشکر کشی کے دوران محمود غزنوی کے ساتھ رہے اور اس اہم جنگ میں اس عظیم افغان فاتح اور مہم جو کا بھرپور ساتھ دیا.

قبیلہ اتمان خیل درجہ زیل بڑے بڑے زیلی شاخوں میں قبائلی طور پر تقسیم ہیں جس میں ہر ایک مزید چھوٹے چھوٹے ثانوی شاخوں میں تقسیم در تقسیم ہیں.

علیزئی
مزید زیلی شاخ. مامونزئی، عیسوزئی، ادریزئی، اوریزئی، مارخوزئی پر مشتمل ہیں
اس کے علاوہ گوری، بوٹ خیل، عمرخیل، ٹاکور، صابی خیل اصیل، بڈاخیل، شیخان، ماندل، مندڑ، شموزی، متکی، سانی زئی، پیغوزئی، محمدخیل، بے مرئی، سرکانی خیل اورکئے دیگر زیلی اور ثانوی شاخیں ہیں.
اتمان خیل قبیلہ کے لوگ پیشے کے حوالے سے مزدورکار اور تجارت پیشہ واقع ہوئے کیونکہ جغرافیائی اعتبار سے یہ لوگ ان علاقوں میں اباد ہیں جو کاشت کاری کے لئے زیادہ موزوں نہیں ہے.
اس قبیلے کے قابل زکر افراد میں صوبہ خیبرپختونخواہ کے وزیر خزانہ اور جماعت اسلامی کے راہنما مظفرسید، ایم پی اے اعزازالملک افکاری، سابق چیف جسٹس فضل الہی اتمان خیل، فصیح الدین ڈی ائی جی، سابق افغان صدر حامدکرزئی کے قریبی معاون اور افغان سیاسی راہنما فرحت اللہ افغانی سابق ممبر صوبائی اسمبلی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی راہنما حاجی بہادرخان، سابق ممبر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے راہنما حاجی محمد خان، سابق ممبر قومی اسمبلی حاجی بسم اللہ خان، صاحب کتاب شعراء مسلم خان وصال، شوگیر اتمان خیل، نواجوان شاعر ودان اتمان خیل اور کئے دیگر شامل ہیں ( اس حصے کو ائندہ چند روز کے اندر مکمل تصدیقی عمل سے گزارکر تفصیلی طور اپ ڈیٹ کیا جائے گا، قارئین کا تعاون بھی درکار ہے. شکریہ)




اہم نوٹ.
زیلی اور ثانوی شاخوں کے علاوہ قبیلہ اتمان خیل کے اقوام وافراد پر مشتمل علاقوں کی یہ تفصیل مکمل اور حتمی بلکل نہیں، اتمان خیل قومی مومنٹ کے تعیلم یافتہ نوجوان اس پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور اگر اپ کے پاس بھی کوئی مناسب اور قابل غور معلومات ہیں تو مومنٹ کے مقامی مشران یا اس پوسٹ کے نیچے کمنٹ میں درج کیجئے، تصدیقی عمل کے بعد اپکے نام کے حوالے کے ساتھ اس تالیف کاحصہ بنایاجائے گا. المختصرقبیلہ اتمان خیل کے حوالے سے یہ تالیف اپ قابل قدر قارئین، اس قبیلے سے وابستہ بزرگان، تحقیق کرنے والے نوجوانوں اور قلم کاروں کی تعاون سے مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے گا.
حوالہ جات.
وکی پیڈیا
انسائیکلوپیڈیا اف بریٹینکا گیارواں ایڈیشن
سابق برطانوی وزیر اعظم کی تصنیف ملاکنڈ فیلڈ فورس
اتمان خیل قومی مومنٹ کے روح رواں طاہر اتمانخیل اف تیمرگرہ

9 thoughts on “قبیلہ اتمان خیل. چرچل اور تاریخ کے نظر میں

  1. شموزی تاریخ کی آئینے میں زراواضح کریں کیونکہ یہ سوات میں بھی ہے اور چارسدہ میں اتمان زئی میں بھی آباد ہے
    اس حوالے سے معلومات فراہم کریں

  2. مجھے بہت خوشی ہوئ اتمان خیل قوم کے اتحاد کی کوششوں کو دیکھ کر لیکن اس سےزیادہ کوششوں کی ضرورت ہے کیوں کے مجھے بہت حیرت ہوئ جب میں نے فیس بک میں آصف خان اتمان چلاسی کو دیکھا موصوف سے میں نے پوچھا کیا چلاس میں اتمان خیل ہیں اس نے جواب دیا ہاں کافی تعداد میں ہیں اس کے علاوہ جب باقی پشتون قومیں ہم کو کبھی یوسفزئ کھبی آفریدی کھبی وزیر کھبی کاکڑ کہتے تو میں سوچ میں پڑ جاتا کے ہم کون ہیں اور جب میں غیر پشتون کو کہتا کے میں اتمان خیل ہوں وہ کہتا یہ نام میں نے پہلی بار سنا ہے میں نے تاریخ میں پڑھا کے جب اتمان خیل قبیلہ نے یوسفزئیوں کا ساتھ دیا بعد میں ناراض ہوکر تیرا اورکزئ چلے گئے وہاں بعد میں آفریدیوں اور اورکزئیوں مل کر اتمان خیل کو نکالا آج بھی وہاں پر اتمان خیل کا علاقہ اور لوگ موجود ہیں لیکن وہ بچارے اپنے آپ کو اورکزئی بتاتے ہیں اسی طرح میں نے یوٹیوب پر دو ویڈیوز دیکھیں ایک وزیرستان میں آمنو آمان کے حولے سے اتمان خیل قبیلہ کا اکھٹا ہونا تھا وہ بیچارے آپنے آپ کو سلیمان خیل کے ساتھ ملاتے ہیں دوسری ویڈیو حضرو جلالیہ میں اتمان خیل حجرا دیکھ کر خوشی ہوئ کے وہاں بھی میری قوم آباد ہے اسی طرح میں نے ایک جگہ انٹرنیٹ پر پڑاکے طاہر خیلی اتمان خیل ہیں یہ ملک طاہر کی اولاد ہے جو احمدشاہ بابا کے ساتھ آیے تھےاور اتمان خیل کی شاخ علیزئ کے ساتھ ان کا تعلق تھا لیکن وہ اپنے آپ کواتمان زئ سے ملاتے ہیں ایک پروفیسر صاحب سے اس مسلہ پر بحث بھی ہوئ اس کا کہنا تھا کہ اتمان خیل باجوڑ میں ایک چھوٹا سا قبیلہ ہے مجھے بہت دکھ ہوا اس کے خیلات سے ۔ تاریخ کے کتابوں میں ہمارے بارے وہ نہیں لھکا گیا جو ہمارے بارے میں لکھنے کا حق تھا اس کے علاوہ ہماری پسماندگی اور ھمارے آپس کے اختلاف نے ہمارے تشخص کو برباد کیا ۔ترک عثمان کو اتمان کہتے ہیں اسی طرح ہمارے قبیلہ کے لیے استمال ہونے والا لفظ تایخ کے کتابوں میں افردیوں کے لیے لکھا جارہاہے جو ہماری کمنصیبی ہے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے ہماری پہچان اور اتحاد کے لیے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے

  3. جناب ایک شموزئی باجوڑ میں اتمان خیل کا علاقہ ہے اور ایک شموزئی ڈیرہ اسماعیل خان میں کری شموزئی کے ہیں کری سرایکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گنے چھاؤں والا درخت ہے

  4. جناب اُتمان خیل تو ہزاروں کے تعداد میں لورالاٸی میں بھی آباد ہے جو کہ زراعت اور تجارت کے کاروبار سےوابسطہ ہے حاجی محمدخان عرف طور اتمان خیل 2018 کے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے صوباٸی نشست پرکامیاب ہوا ہے غازی ارسلا خان اتمان خیل کاتعلق بھی لورالاٸی سے تھا جو انگریزوں کےخلاف جنگ میں شامل تھا

    1. جناب اتمان خیل صاحب
      براہ کرم لورالائی اور بلوچستان میں بسنے والے اتمان خیل قبیلے کے لوگوں کی ابادی ، اہم اور بڑے گاوں اور اہم شخصیات کے بارے میں ضرور ہمین اطلاع دیجئے۔ ہم منتظررہیں گے۔ اور ایک بات یہ ارٹیکل اپنے دوستوں اور خصوصی طور پر اتمان خیل قبیلے کے نوجوان نسل کے ساتھ ضرور شئیر کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات ہم اکٹھے کرسکے۔ شکریہ۔ ایڈمن اپ ڈیٹیڈ پاکستان

      1. اصغر خان اتمانخیل، لورالائی میں اباد اتمانخیل قوم لورالائی کا دوسرا بڑا قوم ہے یہ چھوٹے بڑے 19گاوں میں اباد ہے جن کے نام کچھ یوں ہے کلی پھٹانکوٹ، کلی گندہ غوژ، کلی زمینداراں، کلی سگھر، کلی سگھر مسعود، کلی پڑئ، کلی مہول، کلی مہول شیخان، کلی رودلین، کلی لشتئ، کلی شاہ کاریز، کلی ژڑکاریز، کلی مینارہ کلاں، کلی مینارہ خورد، کلی نیگانگ، کلی سرکی جنگل، کلی ڈنڈہ، کلی مراج، کلی کوہار کاریز، کلی لہ غئ، کلی نرئ غبگہ، ہے اور اتمانخیل قوم کے شاخیں، ملک زہئ اتمانخیل، خدرزئ اتمانخیل، شہبازئ اتمانخیل، عمرانزئ اتمانخیل، عمرزئ اتمانخیل، حیدرزئ اتمانخیل، لالک زئ اتمانخیل، گلازئ اتمانخیل، ادمزئ اتمانخیل، شیخان اتمانخیل، نیکوزئ اتمانخیل، آخونذادہ گان، ہے یہ مکمل نہیں ہے

  5. آپ کی تحریر پڑھی ، بہت زبردست معلومات میں تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا ہوں اس لیے تحریر بہت پسند آئ لیکن آپ نے اتمان خیل قبیلے کے مشہور افراد کے تذکرے میں باجوڑ کے سابقہ ایم این اے حاجی بسم اللہ خان کا نام بھی لکھا، تو اس کی اصلاح کرلیں یہ غلط ہے کیونکہ حاجی بسم اللہ خان باجوڑ کے ترکھانی سلارزئی اتمان خیل قوم سے تعلق رکھتے ہیں ، امید ہے برا نہیں منائیں گے۔ بلال یاسر باجوڑ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے