کیا منظور پشتین کو امریکی حمایت ملنی چاہئے؟؟ امریکی ادارے کا تجزیہ

پاکستان دنیا

یہ مضمون پشتو زبان میں وائس اف امریکہ پر نزرانہ غفار یوسفزئ کی تحریر کردہ ہے اور یہاں اسکا مختصراردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے.

،، امریکہ کو چاہئے کہ وہ پشتون قومی تحریک کو اچھی نظر سے دیکھے کیونکہ امریکہ ہمیشہ انسانی حقوق کی حمایت کرتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو اظہار رائے کی ازادی اور دھشت گردی کا کھل کرمقابلہ کرنا چاہیے،،
ان خیالات کا اظہارامریکہ میں جنوبی ایشیاء کے سیاسی امور کے ماہر مائیکل کگلمین نے وائس اف امریکہ کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران پاکستان میں جاری پختون تحفظ مومنٹ کے بارے میں کیا ہے. مائیکل کا مذید مذکورہ انٹریو میں کہنا تھا کہ اگر منظور پشتین نے اپنے حقوق کی بحالی اور دھشت گردی کے خلاف تحریک کا اغاز کیا تو امریکہ کو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے. لیکن موصوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ کھلے عام ایسا کرنا امریکہ کے لئے مشکل ضرورہوگا کیونکہ امریکہ کسی ملک کی داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرسکتی.
،، امریکہ منظور پشتین اور اسکی تحریک کی کھل کرحمایت کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ اس سے منظور پشتین کی تحریک کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ،،
امریکہ کے ریاست میری لینڈ میں ایک یونیورسٹی پروفیسر اور سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر عاصم یوسفزئی بھی مائکل کگلمین سے متفق ہے اور کہتے ہے کہ امریکہ کو منظور پشتین کی اصولی حمایت کرنی چاہیئے لیکن میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوگا.
جب ڈاکٹر عاصم یوسفزئی سے سوال کیا گیا کہ امریکی حکومت کیوںکر منظور پشتین کی حمایت نہیں کرسکتی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو اس سے پاکستانی اداروں میں غصے کی لہرپیدا ہوگی اور امریکہ کسی اتحادی ملک کی اندرونی معاملات میں ایسی مداخلت کی پالیسی کا طرف دار نہیں.
ڈاکٹر عاصم کا مزید کہنا تھا کہ امریکی ریاست کی دیگر ممالک کی اندرونی معاملات میں مداخلت کی پالیسی بلکل واضح ہے لیکن زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ امریکی کانگرس میں پختون تحفظ مومنٹ کے حق میں تقاریر کی جائے جسطرح بلوچوں کے معاملے میں ہوا تھا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے