پاکستان میں یہودیوں کی ابادی اور تاریخ

پاکستان تاریخ

وکی پیڈیا نے لکھا کہ موجودہ پاکستان کے علاقوں میں یہودیوں کی تاریخ 1500 سے لیکر 2000 سال پرانی ہوسکتی ہے لیکن کم از کم 1839 عیسوی سے اس خطے میں یہودیوں کی موجودگی ثابت شدہ اور دستاویزی شکل میں محفوظ ہے.

20ویں صدی عیسوی کے ابتداء میں لگائے گئے مختلف تخمینوں کے مطابق صرف کراچی شہر میں 1000 سے لیکر 2500 تک یہودی اباد تھے جو بنیادی طور پر بنی اسرائیل نسل سے چلے ارہے ہیں جو موجودہ بھارتی شہر مہاراشتڑہ سے کراچی اکر اباد ہوئے تھے. مہاراشتڑا سے انے والے یہودیوں میں ایک مناسب تعداد راولپنڈی اور چند خاندان پشاور شہر میں بھی اباد ہوئے لیکن زیادہ ارتکاز کراچی شہر کی طرف تھا. موجودہ پاکستان میں اج بھی بنی اسرائیل یہودی اباد ہیں اور نادرا کے ریکارڈ کے مطابق رجسٹرڈ یہودی خاندانوں کی تعداد 745 ہیں. ( افراد کی تعداد مختلف ہوسکتی ہے).

ماضی قریب کی تاریخ:.
سلطنت فارس کے شہر مشہد میں قتل عام سے بچنے کے لئے ہجرت کرنے والے یہودی 1839 میں راولپنڈی شہر میں اکر بسنے لگے اور بیسویں صدی کے اوائل میں یہودیوں کا قائم کردہ سینا گاگ ( یہودی عبادت خانہ ) اج بھی راولپنڈی شہر کے نشتر سٹریٹ بابو محلہ میں موجود ہے.




برطانوی کالونیل دور ( 1842 سے 1947 تک ):.
1881 کے مردم شماری کے مطابق موجودہ صوبہ سندھ میں 153 یہودی 1901 کی مردم شماری کے مطابق 482 یہودی کراچی شہر میں اباد تھے. 1919 کو یہ تعداد 650 تک جاپہنچی اور برصغیر پاک وہند کے تقسیم کے وقت یعنی 1947 کو صوبہ سندھ میں یہودیوں کی کل تعداد 1500 تھی جس میں سے بیشتر کراچی شہر میں اباد تھے.
پاکستان اور بلخصوص کراچی شہر میں اباد یہ یہودی بنی اسرائیل یہودی ہیں اور کاروبار کے علاوہ فلسفہ، ہنرمندی، شعراوادب اور سول سروس سے وابستہ رہے ہیں.

ماجن شلوم سینا گاگ ( یہودی عبادت خانہ ):
یہ سینا گاگ (عبادت خانہ ) کراچی شہر میں رنچوڑ لائن کے قریب ایک یہودی شلوم سولومان اور اسکے بیٹے جرشون سلومان نے 1893 میں تعمیر کروایا تھا جبکہ ایک اور یاداشت کے مطابق یہ اہم یہودی عبادت خانہ کراچی میونسپل کمیٹی کے سروئیر سلومان ڈیوڈ اور اسکی بیوی شیوولابی نے تعمیرکروایا تھا ( جو کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے یہودی ملازم تھے). یہ سیناگاگ کراچی میں یہودی ابادی کے مذہبی، ثقافتی ، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر اباد تھا. اس سینا گاگ کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ 1988 کو ضیاءالحق کی حکومت میں مسمار کرکے اسکی جگہ پر ایک شاپنگ پلازہ تعمیرکیا گیا.
اسرائیلی شہر رملہ کی طرف میں مقیم پاکستانی نژاد یہودیوں نے بعد میں وہاں ایک سیناگاگ قائم کرکے اسکا نام ماجن شلوم کے نام سے منسوب کیا.




سماجی تنظیمیں:.
ینگ مین جیوش ایسوسی ایشن یعنی نوجوان یہودیوں کی تنظیم 1903 میں قائم کی گئی جو کراچی کےنوجوان بنی اسرائیل یہودیوں میں کھیل کود کے فروغ اور مزہبی سرگرمیوں کے منظم کرنے کے لئے بنائی گئی تھی.
اس کے علاوہ قابل ذکر سماجی تنظمیوں میں کراچی بنی اسرائیل ریلیف فنڈ اور کراچی جیوش سنیڈکیٹ شامل ہیں.

قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں یہودیوں کی ابادی اور تاریخ:.
برصغیر پاک وہند کے تقسیم کے بعد کراچی میں 1300 یہودی باقی رہ گئے کیونکہ پاکستان میں نامساعد حالات اور مذہبی وجوھات کی بناء پر زیادہ تریہودی بھارتی شہر بمبئی کی طرف چلے گئے. 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد پاکستان میں مقیم یہودیوں کی ایک بڑی تعداد بھارت کے زریعے اسرائیل چلے گئے اور 1953 کے عرب اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان میں بمشکل 500 یہودی باقی رہ گئے. اسرائیل میں ایک اندازے کے مطابق 1000 سے 2000 تک پاکستانی نژاد یہودی مختلف شہروں میں اباد ہیں.

Dan Kiesel نامی یہودی 1995 سے 1999 تک پاکستان کرکٹ بورڈ میں بطور فیزیوتھراپسٹ زمہ سرانجام دیتے رہے اور موصوف کی تعیناتی پاکستان کے سنیٹ میں قانون سازوں کی طرف سے سوالات اٹھاکر زیر بحث بھی لائی گئی تھی.

پاکستان کے اندر ہونے والے قومی انتخابات 2013 کے اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر 809 یہودی ووٹر الیکشن کمیشن اف پاکستان میں رجسٹرڈ جبکہ 2018 کے انتخابات کے دوران 900 یہودی مروزن بطور ووٹرز رجسٹرڈ تھے. ووٹرز کی تعداد سے موجودہ وقت میں پاکستان کے اندر رہنے والے یہودیوں کی کل ابادی 2500 سے 3000 تک ہوسکتی ہے.

کراچی میں میوہ شاہ قبرستان پاکستان میں یہودیوں کا سب سے بڑا اور مشہور قبرستان ہے




History of Jews Living in Current Day Pakistan by Updated Pakistan In Urdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے