خبردار۔ پاکستان میں یہودی لابی تیزی سے سرگرم

پاکستان کالمز
Sayyed Khesro Jan
Sayyed Khesro Jan

تحریر. سید خسرو جان، سعودی عرب

مولانا نے فرمایا تھا، کہ یہودی لابی سرگرم ہے.
کپتان برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے.
پچھلے 3 دنوں سے مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اتنا شور شرابہ ہے، کہ بغیر کالا چشمہ لگائے اور کانوں میں روئی رکھے بغیر گزارہ ناممکن ہے. ہر جگہ سے تحریک انصاف کے طرف سے یہی چیخ وپکار ہے. کہ عمران خان صاحب برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے. میرے خیال میں مسکین کو جب وقت کی روٹی مل جائے تو ان کے ہاں جشن کا سماں ہوتا ہے. کیونکہ ان کی ضرورت وقت کی روٹی ہوا کرتی ہے. ان کے خواہشات ان کے مجبوریوں کے تحت بہت محدود ہوتے ہیں. اسلئے وقت کی روٹی پر ان کی نظر رہتی ہے. حالانکہ یہ عام آدمی کیلئے ایک بہت عام اور نارمل سی بات ہے. یہی حال تحریک انصاف والوں کا ہے. کہ ایک نہایت چھوٹی سی بات کو دنیا کی سب سے بڑی خوشی تصور کررہے ہیں. ان کے نظر میں برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب دنیا کی سب سے بڑی خوشی اور انتہائی مشکل کام ہے. بتایا جائے کہ اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس سے ہمارا کتنا قرضہ معاف ہوگا؟ کیا اس کے بعد برطانیہ الطاف حسین اور بلوچ ایجنٹ جیسے ملک دشمنوں کو پاکستان کے حوالے کریں گے؟ کیا اس کے بعد برطانیہ امریکہ کیساتھ مل کر ہمارے خودمختاری کا احترام کرنا پسند کرے گا؟ کیا اس کے بعد سبز پاسپورٹ کا وقار بلند ہوگا؟ کیا اس کے بعد پاکستان میں معاشی خوشحالی آئیگی؟ کیا دوسروں کے پارلیمنٹ میں خطاب کرنے پر فخر محسوس کرنے والا اپنے اسمبلی میں جانا پسند کرتا ہے؟ کیا برطانیہ میں خطاب کرنے سے پاکستان دنیا کے ترقیافتہ اقوام میں شمار ہوجائیگا؟ کیا یہ دنیا کا سب سے بڑا فورم ہے؟ کیا عمران خان کے علاوہ یہاں پر اور مزید سینکڑوں لوگوں نے خطاب نہیں کئے؟ کیا یہ خطاب تحریک انصاف کیساتھ ڈیل کے نتیجے میں تو نہیں ہورہی؟ کیا برطانیہ اپنے مفادات کے بغیر عمران خان کو پروٹوکول دے رہا ہے اور کیوں؟ کیا اس کے بدلے میں خان صاحب نے کوئی بڑا سودا تو طے نہیں کیا ہوگا؟
انصافین یہ تو سوالات ہیں، جن کے جوابات بہت ضروری ہے. دوسرا یہ کہ اس سے بڑا فورم اقوام متحدہ کا فورم ہے، جہاں پر ضیاءالحق، ایوب خان، جنرل مشرف سمیت شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، ذوالفقار علی بھٹو شہید اور نوازشریف کے علاوہ بے نظیر بھٹو شہید نے خطاب کیا. اور اس کے علاوہ بھی چند دیگر شخصیات اور سفارتکاروں اور وزیر خارجہ نے تقریر کیا. آپ کو معلوم ہونا چاہئے، کہ اقوام متحدہ میں موجود مندوبین بھی اس سے بڑے بڑے فورمز پر تقریر کرتے ہیں. یہ کوئی بڑی بات نہیں. اسلئے اس چیز کو سمجھنا چاہئے کہ اقوام متحدہ ہی دنیا کا سب سے بڑا اور انتہائی اہمیت کا فورم ہے. جہاں پر دنیا کے تمام ممالک کے سربراہان مملکت، مختلف وزیر، سفارتکار اور مندوب بیک وقت موجود ہوتے ہیں. یوں ہزاروں کا یہ اجتماع برطانوی خطاب سے کئے ہزار گنا بڑھ کر ہے. اسلئے پہلے فورم کو پہچان لو پھر بات کرو. جہاں پر عمران خان صاحب کو جانے میں ابھی کافی عرصہ باقی ہے. جہاں کچھ پاکستانیوں نے 5 سے لیکر 7 اور 8 بار بھی خطاب کیا. آپ کہاں سورہے ہو. آنکھیں کھول اور دنیا دیکھ. برطانیہ کیطرف سے عمران خان کو بلانا ایک بہت نارمل سی بات ہے. کیونکہ برطانیہ والے ان کو اپنا ہی سمجھتے ہیں. تو اپنوں کو تو موقعہ ملتا ہے. ایک اور اہم بات کہ برطانوی حکومت پاکستان کے الیکشن کے وقت کو مدنظر رکھ کو لازمی عمران خان کو سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں. کہ عمران خان جیت جائے اور پھر پاکستان میں امریکہ کیساتھ ساتھ برطانیہ کا اثر رسوخ بڑھے. یہ بات بالکل طے ہے. ہر پاکستانی کو اس کا بخوبی علم اور اندازہ ہے. کہ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے.
ویسے مولانا فضل الرحمن نے درست فرمایا تھا. کہ عمران خان صاحب یہودی لابی کا نامزد کردہ امیدوار ہے. ان سے اس ملک میں خیر کی توقع رکھنا عقل مندی نہیں. مولانا صاحب مان گیا آپ کو. جو کچھ ابھی ہورہا ہے. اس کی پیشن گوئی آپ نے برسوں پہلے کی ہوئی تھی. لیکن اس وقت شائد کوئی اس طرف نہیں سوچ رہا تھا.

نوٹ.
اپ سیدخسرو جان کے اس کالم کے جواب میں لکھنا چاہتے تو ہے یہ پلیٹ فارم حاضر ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے