Urdu Story of Google 20 years

گوگل کی کہانی. اور اب گوگل بیس برس کا ہوگیا

پاکستان ٹیکنالوجی

یہ کہانی ہے گوگل کی اور یاد رکھئے کہ لیری پیج، یونیورسٹی آف مشی گن کا سٹوڈنٹ تھا لیکن جب وہ سٹینفورڈ جیسے یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی غرض سے گیا تو وہ وہاں پہلے سے موجود ایک چالاک طالبعلم سیرگئی برِین کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں پڑھ رہا تھا. سیرگئی برِین نے لیری پیج کو یونیورسٹی کے مختلف حصے دکھانے شروع کئے. مختلف حصوں کی لفظ سے یاد ایا کہ یہ دونوں طالب علم ایک دوسرے سے اتنے مختلف تھے کہ ہر بات پر اختلاف کرنا انکا معمول بن گیا.

لیکن اختلاف کی یہ کیفیت صرف ایک سال بعد ایک نکاتی اتحاد میں تبدیل ہوئی جب دونوں نے فیصلہ کیا کہ ایک کمپیوٹر نیٹ ورکنگ پراجیکٹ پر مل کام کیا جائے. دونوں ایک سرچ انجن کو بنانے کے کام میں‌لگ گئے اور ابتدائی طور ورلڈ وائڈ ویب کے لیے بیک رُب بنایا جو انٹرنیٹ پر ڈاکومنٹس تلاش کا کام کرتا تھا اور بہت جلد اس سرچ انجن کو گوگل کا نام دیا گیا جو اج دنیا کا سب مقبول اور ڈیجٹیل دنیا کا سب سے زیادہ مستعمل نام ہے بلکہ جدید ڈیجیٹل دنیا کی سب سے زیادہ امدنی بنانے والی کمپنی ہے.

گوگل بنانے والے لیری پیج اور سرگئی برین

سلیکون ویلی کے شاطر سرمایہ کاروں کی توجہ گوگل کی طرف مبذول ہوئی اور سن مائیکرو سِسٹمز کے شریک جرمن بانی اینڈی پیشٹولزہائم نے ابتدائی طور پر1998 کو گوگل میں ایک لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی. اس سرمایہ کاری سے گوگل اب محض گوگل نہیں
بلکہ گوگل انکارپوریشن کے نام سے کمپنی بن گئی اور دو مختلف خیالات رکھنے والے لیری پیچ اور سیرگئی برین کو ایک کمرے کے بجائے ایک بڑا گیراج بطور دفتر مل گیا جو گوگل کا پہلا دفتر تھا. یہ دفتر یعنی گیراج سوزان وجکیکی کی ملکیت تھی جو اب گوگل کے ایک بڑے ویڈیو ویب سائیٹ یوٹیوب کے چیف ایگزیکٹو ہے. ( یہ موصوفہ یعنی خاتون ہے ).

اس سرچ انجن کے زریعے انٹرنٹ پر ہزاروں دستاویزات تلاش کئے گئے اور بعد میں اس کو ایلفابیٹ کمپنی کا ایک یونٹ بنایا گیا جو انٹرنٹ پر سنٹرل سرچ ، اشتہاراتی کاروبار کو دیگر کاروبار سے اپنے پروگرامنگ کے زریعے الگ کرتی ہے.



ایک تحقیقی مضمون کے مطابق اس کمپنی نے گزشتہ بیس برسوں میں جو سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے، وہ ’مونیٹائزیشن سرچ‘ ہے۔ گلوبل ڈیٹا ماہر ایوی گرین گارٹ کے مطابق اس کمپنی نے انٹرنیٹ سرچز کو الیگوریتھمز کے ذریعے اشتہاری کاروباری میں تبدیل کر دیا اور اب بھی اس کمپنی کو ہونے والی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ اسی طریقے سے حاصل ہوتا ہے۔

انٹرنیٹ پر ہونے والے کاروبار اور اشتہارات کی ستر 70 فی صد امدنی گوگل کو جاتی ہے اور گوگل کی کل امدنی کا 90 فی صد انحصار انہیں کاروباری اشتہارات سے حاصل ہوتی ہے.

اس وقت گوگل کی سالانہ امدن $100 billion امریکی ڈآلرز ہیں ( یاد رکھئے کہ یہ پاکستان کی سالانہ کل بجٹ سے تین گنا زیادہ رقم ہے ) جو ڈیجٹیل کاروبار میں کامیابی کی ایک اچھوتی کہانی ہے. تو لیجئے جناب گوگل کے زریعے گوگل کے متعلق مزید تلاش جاری رکھئے.

چار ستمبر 2018 کو گوگل اب مکمل طور پر بالغ ہوچکا، ہوچکی ہے اور اس کی کل عمر بیس برس ہوگئی ہے.



Tags. The Story of Google in Urdu, Urdu History of Google, How Google Came to the world, The Development of Google, The Founder of Google, The complete history of Google in Urdu, Urdu article on 20 years of Google by Updated Pakistan. Updated Pakistan the Pakistan based Urdu blog for latest News, Tech blogs and Much more You want to read and Know about. So keep visiting us for whats happening around you and the rest of the world

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے