گیس قیمتیں فوری طور پر نہیں بڑھائیں گے. حکومت کا دبنگ فیصلہ

پاکستان

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کے زیرصدرات اقتصادی رابطہ کمیٹی ECC کا اہم اجلاس اج منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ گیس قیمتوں میں مجوزہ اضافے کے فیصلے پر فوری عمل نہیں کیا جائے گا تاکہ صارفین پر کم سے کم بوجھ ڈالا جاسکے. اس کام کو مرحلہ وار انداز سے اگے بڑھانے کے لئے حکمت عملی طے کی گئی ہے.

خبر کے مطابق کمیٹی نے نے گیس قیمت میں مرحلہ وار اضافے کے لئے گائیڈ لائنز وضع کئے ہیں تاہم اس حوالے حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان ہی کرینگے. اج منعقد ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کھاد فیکڑیوں کو 50 فیصد مقامی گیس اور 50 فیصد ایل این جی مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایل این جی کا 50 فیصد بل کھاد کمپنیاں ادا کریں گی جب کہ 50 فیصد حکومت ادا کرے گی.



موجودہ عمران خان حکومت پر گزشتہ کئے دنوں سے سخت تنقید کا سلسلہ اس لئے جاری ہے کہ حکومت کے قیام کے دو ہفتے کے اندر اندر گیس کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ کا اعلان کیا تھا.

اجلاس کے حوالے سے وزیراطلات فواد چودھری نے میڈیا کو بتایا کہ سابق حکومت گیس سیکٹر میں 156 ارب روپےکا سالانہ خسارہ چھوڑ کرگئی جس سے موجودہ حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.
فواد چودھری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سابق وزیراعظم اور نواز شریف دور میں وفاقی وزیر پٹرولیم اور گیس شاہدخاقان عباسی بہتر بتاسکتے ہیں کہ گیس سیکٹر کی حالت تباہ کیوں ہے، پاکستان میں گیس کا شعبہ تباہ ہورہا ہے، ای سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا ہےکہ فی الحال گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جارہا، سبسڈی کے نظام پر بحث ہوگی اس کے بعد وزیراعظم حتمی فیصلہ کریں گے۔

فواد چودھری نے یہ بھی بتایا کہ کسانوں اور کاشت کاروں کو ریلیف دینے کے لئے ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درامد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کسانوں کو اس مد میں بہت بڑی سبسڈی دی جائی گی تاکہ غریب عوام کسی بھی صورت متاثر نہ ہوجائے.


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے