کھانسی کے لئے اینٹی بائیوٹک کے بجائے شہد کا استعمال کیا جائے. ماہرین

پاکستان صحت

برطانوی ماہرین نے ایک نئی تحقیق کے بنیاد پر تجویز کیا ہے کہ اگر کھانسی ہوئی ہے تو اینٹی بائیوٹک ادویات کے بجائے سب سے پہلے شہد کا استعمال بطور علاج کیا جائے .

میڈیکل سائنس کے ماہرین کا کہنا ہے کھانسی کا زیادہ تروجہ وائرس ہوتے ہیں جس پر اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتے جبکہ اینٹی بائیوٹک کے زیادہ اور باربار استعمال کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ امراض کے خلاف انسان کے دفاعی نظام کوشدید طور پر کمزور کردیتا ہے.

لہذاہ کھانسی کے مریضوں کو ابتدائی طور پر گرم مشروف اور شہد کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے جس میں لیموں اور ادرک ملا ہوا ہو.
ماہرین کے اس نئی تحقیق اور تجویز کا مقصد اینٹی بائیوٹک کے استعمال سے انسانی مدافعتی نظام پر پڑنے والے بری اور منفی اثرات کو روکنا ہے.



بی بی سی کے ایک رپورٹ کے مطابق پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سوزن ہاپکنز نے کہا: ‘اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت بہت بڑا مسئلہ ہے اور ہمیں اینٹی بایوٹکس کا استعمال کم کرنے کے لیے فوری طور پر عملی قدم اٹھانا ہوں گے۔

‘ان نئی سفارشات کی روشنی میں ڈاکٹروں کی طرف سے اینٹی بایوٹکس کے نسخے کم کرنے میں مدد ملے گی اور ہم مریضوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنا خیال خود رکھیں۔’



تاہم سفارشات میں درج ہے کہ اس وقت اینٹی بایوٹکس لینا ضروری ہو جاتا ہے جب کھانسی کسی سنگین بیماری کا نتیجہ ہو، یا جب مریض کا مدافعتی نظام کمزور پڑ چکا ہو۔

شہد ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو نہیں دینا چاہیے کیوں کہ اس سے بوٹولزم نامی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر ٹیسا لیوس نے کہا: ‘اگر کھانسی بجائے ٹھیک ہونے کے مزید بگڑ رہی ہے یا مریض کو سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی ہے تب آپ کو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔


. The New Research about Honey, Garlic and Lemon use for Cough instead of Antibiotic
Urdu Health Tips by Updated Pakistan

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے