صرف جرمن پادریوں نے ہزاروں بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنائے. تہلکہ خیز انکشاف

پاکستان دنیا

عیسائی مذہبی راہنماؤں کی طرف سے گزشتہ 6 دھائیوں کے دوران صرف جرمنی میں ہزاروں بچے جنسی ہوس اور تشدد کا نشانہ بنے جس میں اکثریت 13 سال تک کم عمر لڑکوں کی ہے. جرمن خبررساں ادارے نے ایک تازہ ترین رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق صورتحال انتہائی افسوسناک قرار دی جارہی ہے.

ادارے کے مطابق جرمن بشت کانفرنس کی ہدایت پر کئے گئے ایک سروے کے نتیجے سے معلوم ہوا کہ 1946ء سے 2014ء کے درمیان 1670 پاردی جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں. اس تعداد میں جرمن پادریوں کا جنسی تشدد میں ملوث ہونے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کتنے معصوم بچے انکے جنسی ہوس کا نشانہ بن چکے ہونگے.




ڈی ڈبلیوریڈیو نے جرمن بشپ کانفرنس کے پادری اسٹیفن آکرمان کے بقول لکھا ہے کہ ’’ہمیں سامنے آنے والے جنسی استحصال کے واقعات کی وسعت کا اندازہ ہے۔ ہم بہت مایوس اور شرمندہ ہیں۔‘‘ آکرمان نے مزید بتایا کہ اس جائزے کا مقصد متاثر ین کی خاطر کلیسا کے اس سیاہ پہلو پر روشنی ڈالنا ہی نہیں ہے بلکہ ، ’’ یہ ہمارے لیے بھی اہم ہے تاکہ ہم اپنی غلطیوں کو سمجھتے ہوئے آئندہ ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روک سکیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 13 سال کے ہر 6 کم عمر لڑکوں میں سے ایک کسی پادری کے شیطانی ہوس کا نشانہ ضرور بنا اور رپورٹ کے مطابق بچے صرف کلیسا یا مذہبی عبادت خانے اور تعلیمات کے حوالے سے ان پادریوں کو جانتے تھے.

اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ماضی کے طرح اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور سال 2014 میں ایسے واقعات میں حیرت انگیز اضافہ ہوچکا تھا. جبکہ والدین کی شکایت کی صورت میں ان پادریوں کے خلاف کاروائی کرکے معمولی سزا دیکر انہیں یا تو معطل کیا گیا یا معمولی پابندیاں عائد کی گئ.



Latest News and Updates by Updated Pakistan, Urdu web for latest news, blogs and Much More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے