امن کی خواہش. دنیا کا منفرد مگر انتہائی تکلیف دہ امن واک

پاکستان دنیا

امن انسانی زندگی کی ترقی، بقاء اور خوشحالی کی اولین ضمانت ہے. امن کی اہمیت کا بہتر اندازہ اور خواہش اس قوم سے زیادہ کس کو ہوسکتی ہے جس قوم کی گذشتہ چارعشرے جنگ وجدل کے نذرہوگئے ہو.
پڑوسی ملک افغانستان گزشتہ چار عشروں سے بین القوامی سازشوں اور اپنوں کی خودغرضیوں کی وجہ سے لہو لہو ہے اور اس قوم کے ہر طبقہ فکر کے لوگ اب امن کے لئے ترس رہے ہیں.
رواں‌ماہ اگست جدید افغانستان کے قیام کا مہینہ ہے اور اسی ماہ افغان سول سوسائٹی نے امن کے قیام کے لئے ایک منفرد مگر مشکل امن واک کے انعقاد کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ منعقد کرکے دیکھایا.

اس واک میں ہر عمر اور علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ابلہ پا (بغیرکسی جوتوں ) کے 550 کلومیٹر لمبی مسافت پر محیط سفر پیدل طے کیا جس کے نتیجے میں واک میں شامل تمام افراد کے پیر شدید طور پر زخمی ہوئے مگر امن کی خواہش لئے یہ شہری اپنی منزل پر اج 15 اگست 2018 کو 15 دن کا مسلسل سفر طے کرکے پہنچ گئے اور دنیا کو اپنے طرف سے پیغام دینے کی کوشش کی کہ افغان قوم مذید جنگ سے تنگ اچکی ہے اور دنیا کے دیگر اقوام کی طرح پرسکون، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کے تشکیل کے خواہشمند ہیں اور وہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور تعاون اور رضامندی کا اظہار کرتے ہیں.

افغان صحافی بادشاہ خان مولا داد نے سماجی رابطوں کے ویب سائیٹ ٹویٹر پر اس امن مارچ کے شرکاء کے دردناک تصاویرانگریزی زبان میں درج تفصیل کے ساتھ جاری کردئے تو دنیا کے ہر کونے سے سوشل میڈیا صارفین نے ایک طرف امن کے خواہش لئے افغان شہریون کو داد دی تو دوسری طرف ان کے زخمی پیروں پر اظہار تاسف کیا. مولاداد نے دنیا بھر کے شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے پیغام امن کو عام کیا جائے اور یہ کہ افغانستان کے لوگوں کو جنگ سے نجات چاہیے اور وہ اس کے لئے اس مشکل سفر سے ہوگزرے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے