کیا امریکہ میں فوج کے خلاف بولاجاسکتا ہے؟؟؟

پاکستان دنیا کالمز

تحریر.
طیبہ ضیا،بشکریہ نوائے وقت.

پینٹاگون امریکی طاقت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔۔امریکی جمہوری حکومتوں پر پینٹا گون المعروف امریکی اسٹبلشمنٹ کا مکمل اختیار ہے۔ پینٹاگون ایک طاقتور اور خود مختار با اختیار ادارہ ہے۔ وائٹ ہاﺅس کی پالیسیاں پینٹا گون المعروف امریکی اسٹبلشمنٹ کے ماتحت ہیں۔ وائٹ ہاﺅس میں چہرے بدلتے ہیں پالیسیاں نہیں۔ بوتلیں بدلتی ہیں شراب نہیں۔ حکومتیں بدلتی ہیں اختیار نہیں۔ پارٹیاں بدلتی ہیں نظام نہیں۔ ملک کی باگ دوڑ پینٹا گون کے ہاتھ میں ہے۔ ملک کی سکیورٹی پینٹا گون المعروف ایجنسیوں کے سپرد ہے۔ امریکہ میں حکومتیں تبدیل کرنے میں بھی امریکی اسٹبلشمنٹ کا اہم کردار ہوتا ہے۔پینٹا گون کے امریکی جمہوریت پر اثر و رسوخ سے متعلق گوروں کی اپنی لکھی بیسیوں تصانیف دستیاب ہیں۔ سی آئی اے کے بلنڈر ز اور پینٹاگون کی حماقتوں کی تاریخ آن ریکارڈ ہے لیکن کسی حکومت نے کبھی اپنے اداروں کے خلاف علم بغاوت تو درکنار دو جملے کہنے کی جسارت نہیں کی۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور جمہوریت تصور کی جاتی ہے لیکن پالیسیوں اور نظام کا ریموٹ کنٹرول پینٹاگون کے قبضہ میں ہے۔اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لئے ہزاروں واقعات لکھے جا سکتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے معاملے پر امریکی محکمہ دفاع اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔وائٹ ہاوس اس بات پر نالاں نظر آتا ہے کہ شمالی کوریا پر حملے کے لیے پینٹاگون صدر ٹرمپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار یا انتخاب نہیں دے رہا۔۔۔عراق جنگ کے بارے میں امریکی خاتون ایجنٹ کے کچھ حیرت انگیز حقائق بھی منظر عام پر آچ±کے ہیں۔اس جرم کی پاداش میں امریکی قانون کے مطابق 25 سال قید میں گزارنے پڑتے لیکن آزاد میڈیا کے دباﺅ پر ایک سال بعد رہا ہو گئی اور ایک جعلی ڈرائیونگ حادثہ میں ان کی جان لینے کی کوشش کی گئی پر وہ بچ گئیں اور بدلہ لینے کا سوچ لیا۔انہوں نے 11 ستمبر اور عراق کی جنگ کے حوالے سے بنائے ہوئے جھوٹ کو فاش کرنے کا ارادہ کر لیا، اور Extreme prejudic نامی کتاب لکھی، یہ اصطلاح سی آئی اے اپنے افسران کو دی جانے والی سخت سزا کے لیے استعمال کرتی تھی۔ اس کتاب کی مصنف امریکی انٹیلی جنس آفیسرسوزان لینداورتھی جو 90 کی دہائی سے عراق کی جنگ تک، خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں،2003 میں انہوں نے امریکی نظام اور سی آئی اے کے بارے میں بات کرنے کی جرات کی اور ان کو اس مسئلے پر خاموش رہنے کے لئے ایک ملین ڈالر کی رشوت کی آفر بھی کی گئی تھی، لیکن انہوں نے وہ قبول نہیں کی۔۔۔ اس کے علاوہ ماضی میں سابق صدرجارج بش کی عراق جنگ میں پسپائی اور جھوٹ بے نقاب ہونے کی ہزیمت کا تمام سہرا امریکی ایجنسیوں اور فوج کو جاتا ہے لیکن بش حکومت کا کوئی ایک بیانیہ اپنی ایجنسیوں کے خلاف ؟ کوئی ایک تقریر اپنے اداروں کے خلاف ؟ کوئی ایک جملہ پینٹاگون یا فوج کے خلاف ؟۔۔۔ میڈیا تو بول سکتا ہے لیکن جمہوری حکومتیں پینٹاگون کے ماتحت ہیں بلکہ پینٹاگون کی آشیرباد کے بغیر نظام حکومت چل ہی نہیں سکتا۔مہذب جمہوری ملکوں میں یہ سب بک بک کیوں نہیں ہوتی ؟ کیوں کہ دنیا کا کوئی ملک اس کے پینٹا گون کے ہولڈ کے بغیر مستحکم نہیں رہ سکتا۔سیاستدان اور حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ریاست کی اصل ماں اس کے پینٹا گون ہوتے ہیں۔ ماں کو گالی دے کر ہمدردیاں بٹورنے کا سیاسی کلچر فقط ریاست پاکستان یں دیکھا جا سکتا ہے جہاں کی سیاسی حکومتیں ہی اس کی ذمہ دار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے