افغانستان میں منشیات کے عادی خواتین کی ہوشرُبا تعداد

دنیا صحت

گزشتہ سال محکمہ صحت افغانستان کے کابل میں مقیم اہلکاروں کے مطابق پورے ملک میں ایک میلین یعنی دس لاکھ افراد منشیات کا استعمال کرتے تھے لیکن رواں سال انہیں اہلکاروں کے مطابق صرف منشیات کے عادی خواتین کی تعداد ایک ملین تک جاپہہنچی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجموعی طور منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوچکا ہے. طلوع نیوزٹی وی کے مطابق محکمہ صحت کے انسداد منشیات پروگرام کے سربراہ شاہ پور یوسف نے ایک سیمنار میں بتایا کہ حیرت انگیز طور ایک لاکھ ایسے افغان بچے بھی منشیات کے لعنت میں مبتلا ہوچکے ہیں جن کی عمریں ابھی دس 10 سال سے کم ہیں. اس سیمنار میں بعض خواتین نے انکشاف کیا کہ انہوں نے منشیات کا استعمال اسلئے شروع کیا ہے کہ ان کے شوہر ایسا کرتے ہیں.
نازنین نامی ایک خاتون نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلی باراپنے شوہر سے منشیات لے کر استعمال شروع کیا جبکہ ایک اور خاتون مروی موسوی نے بتایا کہ ہمیں کسی انسداد منشیات مرکز میں لاکر اس عادت سے چھٹکارا نہیں دلایا جاسکتا جب ہمارے اطراف میں منشیات کا دھندہ کرنے والے لوگ موجود ہونگے.
گزشتہ چار دھائیوں سے جنگ سے متاثرہ ملک افغانستان میں اس وقت انسداد منشیات کے 20 مراکز موجود ہیں جو کہ ماہرین کے مطابق تشدد، افراتفری ، غربت اور جہالت سے متاثرہ معاشرے کے لئے انتہائی کم ہیں اور عالمی برادری کو اس سلسلے میں ہنگامی بینادوں پر تیکنیکی اور مالی مدد کی کوششیں تیز کرنی چاھیے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے